Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4082 (مشکوۃ المصابیح)
[4082] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (1481 وقال: غریب) و أبو داود (2825) و النسائي (228/7 ح 4413) و ابن ماجہ (3184) و الدارمي (82/2 ح 1978) ٭ قال البخاري في أبی العشراء: ’’في حدیثہ واسمہ و سماعہ من أبیہ نظر‘‘
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن أبي العُشَراءِ عَنْ أَبِيہِ أَنَّہُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ؟ فَقَالَ: ((لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِہَا لَأَجْزَأَ عَنْكَ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَہَذِہِ ذَكَاةُ الْمُتَرَدِّي وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: ہَذَا فِي الضَّرُورَة
ابو العشراء اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ذبح صرف حلق اور سینے کے بالائی حصے (لبہ) پر چھری چلانے سے ہی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اگر تم نے اس کی ران پر زخم لگایا تو بھی تیرے لیے کافی ہے۔‘‘ ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی۔اور امام ابوداؤد نے فرمایا: یہ کسی گرے پڑے جانور کے ذبح کرنے کا طریقہ ہے۔اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ ضرورت کے تحت ہے۔اسنادہ ضعیف،رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی۔