Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4114 (مشکوۃ المصابیح)
[4114] متفق علیہ، رواہ البخاري (4362) ومسلم (1935/17)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن جابرٍ قَالَ: غَزَوْتُ جَيْشَ الْخَبْطِ وَأُمِّرَ عَلَيْنَا أَبُو عُبَيْدَةَ فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا فَأَلْقَی الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا لَمْ نَرَ مِثْلَہُ يُقَالُ لَہُ: الْعَنْبَرُ فَأَكَلْنَا مِنْہُ نِصْفَ شَہْرٍ فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِہِ فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَہُ فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: ((كُلُوا رِزْقًا أَخْرَجَہُ اللہُ إِلَيْكُمْ وَأَطْعِمُونَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ)) قَالَ: فَأَرْسَلْنَا إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ مِنْہُ فَأَكلہ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے غزوۂ جیش الخبط میں شرکت کی،ابوعبیدہ ؓ ہمارے امیر مقرر کیے گئے،ہم شدید بھوک کا شکار ہو گئے تو سمندر نے ایک بہت بڑی مردہ مچھلی باہر پھینکی،ہم نے اس جیسی مچھلی کبھی نہیں دیکھی تھی اور اسے عنبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،ہم نے اسے نصف ماہ تک کھایا۔ابوعبیدہ ؓ نے اس کی ہڈیوں میں سے ایک ہڈی پکڑی اور اونٹ سوار اس کے نیچے سے گزر گیا،جب ہم واپس گئے تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اللہ نے تمہاری طرف جو رزق نکالا ہے اسے کھاؤ اور اگر تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں،ہم نے اس میں سے کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے اسے تناول فرمایا۔متفق علیہ۔