Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4146 (مشکوۃ المصابیح)

[4146] إسنادہ صحیح، رواہ أبو داود (3800)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ: كَانَ أَہْلُ الْجَاہِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا فَبَعَثَ اللہُ نَبِيَّہُ وَأَنْزَلَ كِتَابَہُ وَأَحَلَّ حَلَالَہُ وَحَرَّمَ حَرَامَہُ فَمَا أَحَلَّ فَہُوَ حَلَالٌ وَمَا حَرَّمَ فَہُوَ حَرَامٌ وَمَا سَكَتَ عَنْہُ فہوَ عفْوٌ وتَلا (قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَی طَاعِمٍ يَطْعَمُہُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَو دَمًا) رَوَاہُ أَبُو دَاوُد

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں،اہل جاہلیت کچھ چیزیں کھایا کرتے تھے اور کچھ چیزیں بطور کراہت چھوڑ دیا کرتے تھے،اللہ نے اپنے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث فرمایا،اپنی کتاب نازل فرمائی،اس نے حلال کردہ چیزوں کو حلال اور اپنی حرام کردہ چیزوں کو حرام قرار دیا،اس نے جن چیزوں کو حلال کیا وہ حلال ہے اور جن کو حرام کیا وہ حرام ہے،اور جس سے خاموشی اختیار کی تو وہ قابل مؤاخذہ نہیں،پھر ابن عباس ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:’’فرما دیجیے! میری طرف جو وحی کی گئی ہے،میں اس میں کھانے والے کے لیے جو وہ کھاتا ہے،مردار،بہتا ہوا خون،خنزیر کے گوشت کے سوا کوئی اور چیز حرام نہیں پاتا۔‘‘ اسنادہ صحیح،رواہ ابوداؤد۔