Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4152 (مشکوۃ المصابیح)
[4152] إسنادہ حسن، رواہ أبو داود (2835) و الترمذي (1516) و النسائي (165/7 ح 4223)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَن أُمِّ كُرْزٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: ((أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَی مَكِنَاتِہَا)) . قَالَتْ: وَسَمِعْتُہُ يَقُولُ: ((عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ وَلَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد وللترمذي وَالنَّسَائِيّ من قَوْلہ: يَقُول: ((عَن الْغُلَام)) إِلَّا آخِرہ وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: ہَذَا صَحِيح
ام کرز ؓ بیان کرتی ہیں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’پرندوں کو ان کی جگہوں پر رہنے دو۔‘‘ (فال لینے کے لیے انہیں نہ اڑاؤ) انہوں نے بیان کیا،اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے۔اور ان کا نر یا مادہ ہونا تمہارے لیے مضر نہیں۔‘‘ ابوداؤد،ترمذی۔اور نسائی کی روایت:’’لڑکے کی طرف سے ....‘‘ آخر تک ہے،اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث صحیح ہے۔اسنادہ حسن،رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی۔