Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4153 (مشکوۃ المصابیح)
[4153] حسن، رواہ أحمد (12/5 ح 20395) و الترمذي (1522 و قال: حسن صحیح) و أبو داود (2837وسندہ ضعیف۔ 3838 وھو حسن) و النسائي (166/7 ح 4225)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن الحسنِ عَن سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((الْغُلَامُ مُرْتَہَنٌ بِعَقِيقَتِہِ تُذْبَحُ عَنْہُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُسَمَّی وَيُحْلَقُ رَأْسُہُ)) . رَوَاہُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ لَكِنْ فِي رِوَايَتِہِمَا ((رَہِينَةٌ)) بدل ((مرتہنٌ)) وَفِي رِوَايَة لِأَحْمَد وَأبي دَاوُد: ((وَيُدْمَی)) مَكَانَ: ((وَيُسَمَّی)) وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: ((وَيُسَمَّی)) أصحُّ
حسن ؒ،سمرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’لڑکا اپنے عقیقے کے بدلے میں گروی ہے،ساتویں روز اس کی طرف سے ذبح کیا جائے اس کا نام رکھا جائے،اور اس کا سر مونڈایا جائے۔‘‘ احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی۔لیکن ان دونوں (ابوداؤد اور نسائی) کی روایت میں ((مرتھن)) کی جگہ ((رھینۃ)) کے الفاظ ہیں۔اور مسند احمد اور ابوداؤد کی روایت میں ((ویسمّی)) کی بجائے ((ویدمّی)) کے الفاظ ہیں۔اور امام ابوداؤد نے فرمایا: لفظ ((ویسمّی)) زیادہ صحیح ہے۔حسن،رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی۔