Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4157 (مشکوۃ المصابیح)

[4157] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (1514) و أبو داود (5105) ٭ فیہ عاصم بن عبید اللہ ضعیف ضعفہ الجمھور و لہ شاھدان موضوعان عند البیھقي في شعب الإیمان (8619 فیہ یحیی بن العلاء: کذاب و 8620 فیہ محمد بن یونس الکدیمي: کذاب) ذکر تہما للرد علیھما و لا یستشھد بہما . فائدۃ: الأذان فی أذن المولود صحیح، و علیہ کان العمل (بلا إنکار) یعني أجمعت الأمۃ علی مشروعیۃ العمل بہ في عھد الترمذي وغیرہ و الإجماع حجۃ شرعیۃ .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن أبي رافعٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ أذَّنَ فِي أُذُنِ الحسنِ ابنِ عليٍّ حِينَ وَلَدَتْہُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ. رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: ہَذَا حَيْثُ حسن صَحِيح

ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب فاطمہ ؓ نے حسن بن علی ؓ کو جنم دیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے کان میں نماز والی اذان دی۔ترمذی،ابوداؤد۔اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔اسنادہ ضعیف،رواہ الترمذی و ابوداؤد۔