Mishkaat ul Masabeeh Hadith 930 (مشکوۃ المصابیح)

[930] حسن، رواہ الترمذي (3476 وقال: حدیث حسن .) و أبو داود (1481) والنسائي (3/ 44 ح 1285)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن فضَالة بن عُبَيْدٍ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللہِ ﷺ قَاعِدٌ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّی فَقَالَ: اللہُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((عَجِلْتَ أَيُّہَا الْمُصَلِّي إِذَا صَلَّيْتَ فَقَعَدْتَ فَاحْمَدِ اللہَ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ وَصَلِّ عَلَيَّ ثُمَّ ادْعُہُ)) . قَالَ: ثُمَّ صَلَّی رَجُلٌ آخَرُ بَعْدَ ذَلِكَ فَحَمِدَ اللہَ وَصَلَّی عَلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ((أَيُّہَا الْمُصَلِّي ادْعُ تُجَبْ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَی أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ نَحوہ

فضالہ بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف فرما تھے تو ایک آدمی آیا،اس نے نماز پڑھی اور دعا کی: اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’نمازی شخص! تم نے جلد بازی کی،جب تم نماز پڑھ کر (تشہد کے لیے) بیٹھو تو اللہ کی،اس کی شان کے لائق،حمد بیان کرو،مجھ پر درود بھیجو،پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں،پھر اس کے بعد ایک اور آدمی نے نماز پڑھی تو اس نے اللہ کی حمد بیان کی،نبی پر درود بھیجا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا:’’نمازی شخص! دعا کرو،تمہاری دعا قبول ہو گی۔‘‘ ترمذی۔ابوداؤد اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔حسن۔