Mishkaat ul Masabeeh Hadith 937 (مشکوۃ المصابیح)

[937] سندہ ضعیف، رواہ أحمد (1/ 191 ح 1662) ٭ في سماع عبد الواحد بن محمد بن عبد الرحمٰن بن عوف من جدہ نظر فالسند ضعیف للإنقطاع .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللہِ ﷺ حَتَّی دَخَلَ نَخْلًا فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّی خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللہُ تَعَالَی قَدْ تَوَفَّاہُ. قَالَ: فَجِئْتُ أَنْظُرُ فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((مَا لَكَ؟)) فَذَكَرْتُ لَہُ ذَلِكَ. قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْہِ السَّلَام قَالَ لي: أَلا أُبَشِّرك أَن اللہَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لَكَ مَنْ صَلَّی عَلَيْكَ صَلَاةً صَلَّيْتُ عَلَيْہِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سلمت عَلَيْہِ . رَوَاہُ أَحْمد

عبدالرحمٰن بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے حتیٰ کہ کھجوروں کے باغ میں تشریف لے گئے،آپ نے بہت طویل سجدہ کیا حتیٰ کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض نہ کر لی ہو،وہ بیان کرتے ہیں،میں آپ کو دیکھنے کے لیے آیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھایا تو فرمایا:’’آپ کو کیا ہوا؟‘‘ پس میں نے آپ سے وہ خدشہ بیان کر دیا،راوی بیان کرتے ہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’جبریل نے مجھے فرمایا: کیا میں آپ کو بشارت نہ دوں کہ اللہ عزوجل آپ سے فرماتا ہے: جو شخص آپ پر درود بھیجتا ہے تو میں اس پر رحمتیں نازل کرتا ہوں،اور جو آپ پر سلام بھیجتا ہے تو میں اس پر سلامتی بھیجتا ہوں۔‘‘ ضعیف۔