Mishkaat ul Masabeeh Hadith 939 (مشکوۃ المصابیح)
[939] متفق علیہ، رواہ البخاري (832) و مسلم (129/ 589)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ يَقُولُ: ((اللہُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ اللہُمَّ إِنِّي أعوذ بك من المأثم والمغرم)) فَقَالَ لَہُ قَائِل مَا أَكثر مَا تستعيذ من المغرم يَا رَسُول اللہ فَقَالَ: ((إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ))
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں یہ دعا کیا کرتے تھے:’’اے اللہ! میں عذاب قبر اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں،میں موت و حیات کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں،اے اللہ! میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ قرض سے اس قدر کیوں پناہ طلب کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیونکہ جب آدمی مقروض ہوتا ہے تو وہ بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے،اور جب وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے۔‘‘ متفق علیہ۔