Mishkaat ul Masabeeh Hadith 965 (مشکوۃ المصابیح)

[965] متفق علیہ، رواہ البخاري (843) و مسلم (142/ 595)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ: (إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُہَاجِرِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقَالُوا: قَدْ ذَہَبَ أَہْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَی وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ فَقَالَ وَمَا ذَاكَ قَالُوا يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ وَيُعْتِقُونَ وَلَا نُعْتِقُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((أَفَلَا أُعَلِّمُكُمْ شَيْئًا تُدْرِكُونَ بِہِ مَنْ سَبَقَكُمْ وَتَسْبِقُونَ بِہِ مَنْ بَعْدَكُمْ وَلَا يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ إِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ)) قَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ: ((تُسَبِّحُونَ وَتُكَبِّرُونَ وَتَحْمَدُونَ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً)) . قَالَ أَبُو صَالِحٍ: فَرَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُہَاجِرِينَ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالُوا سَمِعَ إِخْوَانُنَا أَہْلُ الْأَمْوَالِ بِمَا فَعَلْنَا فَفَعَلُوا مِثْلَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((ذَلِك فضل اللہ يؤتہ من يَشَاء)) . وَلَيْسَ قَوْلُ أَبِي صَالِحٍ إِلَی آخِرِہِ إِلَّا عِنْدَ مُسْلِمٍ وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: ((تُسَبِّحُونَ فِي دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَتَحْمَدُونَ عَشْرًا وَتُكَبِّرُونَ عشرا)) . بدل ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ کچھ مہاجر فقراء رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا: مال دار دائمی نعمتیں اور بلند درجات پا گئے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’وہ کیسے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں ویسے وہ نماز پڑھتے ہیں،جیسے ہم روزے رکھتے ہیں،ویسے وہ روزے رکھتے ہیں،لیکن وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرتے،وہ غلام آزاد کرتے ہیں،ہم غلام آزاد نہیں کرتے،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کیا میں تمہیں کوئی ایسی چیز نہ سکھاؤں جس کے ذریعے تم اپنے سے سبقت لے جانے والوں کو پا لو گے اور اپنے بعد والوں سے سبقت پا جاؤ گے،اور تم سے صرف وہی (مال دار) شخص بہتر ہو گا جو تمہارے جیسا عمل کرے گا؟ انہوں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! کیوں نہیں،ضرور بتائیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس بار ((سبحان اللہ))،((اللہ اکبر)) اور ((الحمدللہ)) پڑھ لیا کرو۔‘‘ ابوصالح بیان کرتے ہیں،مہاجر فقراء دوبارہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: ہمارے مال دار بھائیوں کو ہمارے عمل کا پتہ چل گیا ہے اور انہوں نے بھی وہی عمل شروع کر دیا ہے،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’یہ اللہ کا فضل ہے،وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔بخاری،مسلم،لیکن ابوصالح کا قول صرف صحیح مسلم میں ہے۔صحیح بخاری کی روایت میں ہے:’’تم ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ ((سبحان اللہ))،دس مرتبہ ((الحمدللہ)) اور دس مرتبہ ((اللہ اکبر)) پڑھا کرو یہ الفاظ:’’تینتیس کے متبادل فرمائے۔‘‘ متفق علیہ۔