Mishkaat ul Masabeeh Hadith 989 (مشکوۃ المصابیح)

[989] إسنادہ حسن، رواہ أبو داود (924)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ وَہُوَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُہُ فَوَجَدْتُہُ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْہِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتَّی إِذَا قَضَی صَلَاتَہُ قَالَ: ((إِنَّ اللہَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِہِ مَا يَشَاءُ ن وَإِن مِمَّا أحدث أَن لَا تتكلموا فِي الصَّلَاة)) . فَرد عَليّ السَّلَام

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ہجرت حبشہ سے پہلے ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حالت نماز میں سلام کیا کرتے تھے،اور آپ ہمیں سلام کا جواب دیا کرتے تھے،جب ہم سر زمین حبشہ سے واپس (مکہ) آئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے،میں نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا،حتیٰ کہ جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز مکمل کر چکے تو فرمایا:’’اللہ جس طرح چاہتا ہے اپنا حکم ظاہر کرتا ہے،اور اب جو نیا حکم آیا ہے وہ یہ ہے کہ تم نماز میں بات نہ کرو۔‘‘ پھر آپ نے مجھے سلام کا جواب دیا۔اسنادہ حسن،رواہ ابوداؤد۔