Jamia al-Tirmidhi Hadith 1019 (سنن الترمذي)
[1019] إسنادہ ضعیف
ابو داود (4900)
وقال البخاري: ’’عمران بن أنس المکي: منکر الحدیث‘‘
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ ہِشَامٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَنَسٍ الْمَكِّيِّ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِيہِمْ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ قَالَ سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ عِمْرَانُ بْنُ أَنَسٍ الْمَكِّيُّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَرَوَی بَعْضُہُمْ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ وَعِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ مِصْرِيٌّ أَقْدَمُ وَأَثْبَتُ مِنْ عِمْرَانَ بْنِ أَنَسٍ الْمَكِّيِّ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے مُردوں کی اچھائیوں کو ذکرکیا کرو اور ان کی برائیاں بیان کرنے سے بازرہو۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث غریب ہے،۲-میں نے محمدبن اسماعیل بخاری کوکہتے سناکہ عمران بن انس مکی منکرالحدیث ہیں،۲-بعض نے عطا سے اور عطا نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے،۳-عمران بن ابی انس مصری عمران بن انس مکی سے پہلے کے ہیں اوران سے زیادہ ثقہ ہیں۔