Jamia al-Tirmidhi Hadith 1020 (سنن الترمذي)
[1020] إسنادہ ضعیف
ابو داود (3176) ابن ماجہ (1545)
بشر بن رافع ضعیف
عبد اللہ بن سلیمان ضعیف (تقریب: 3369)
وللحدیث شواھد
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی عَنْ بِشْرِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا اتَّبَعَ الْجَنَازَةَ لَمْ يَقْعُدْ حَتَّی تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ فَعَرَضَ لَہُ حَبْرٌ فَقَالَ ہَكَذَا نَصْنَعُ يَا مُحَمَّدُ قَالَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَقَالَ خَالِفُوہُمْ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَبِشْرُ بْنُ رَافِعٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو جب تک جنازہ لحد (بغلی قبر)میں رکھ نہ دیاجاتا،نہیں بیٹھتے۔ایک یہودی عالم نے آپ کے پاس آکرکہا: محمد!ہم بھی ایساہی کرتے ہیں،تو رسول اللہ ﷺ بیٹھنے لگ گئے اور فرمایا:تم ان کی مخالفت کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث غریب ہے،۲-بشر بن رافع حدیث میں زیادہ قوی نہیں ہیں۔