Jamia al-Tirmidhi Hadith 1021 (سنن الترمذي)
[1021] إسنادہ ضعیف
قال البیہقي: ’’الضحاک بن عبد الرحمن لم یثبت سماعہ من أبي موسی وعیسی بن سنان ضعیف‘‘ (1/ 284،285)
وقال الھیثمي في عیسی بن سنان: ’’وضعفہ الجمھور‘‘ (مجمع الزوائد 1/ 36)
وقال العراقی في عیسی بن سنان: ضعفہ الجمھور (تخریج الإحیاء 209/2)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سِنَانٍ قَالَ دَفَنْتُ ابْنِي سِنَانًا وَأَبُو طَلْحَةَ الْخَوْلَانِيُّ جَالِسٌ عَلَی شَفِيرِ الْقَبْرِ فَلَمَّا أَرَدْتُ الْخُرُوجَ أَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ أَلَا أُبَشِّرُكَ يَا أَبَا سِنَانٍ قُلْتُ بَلَی فَقَالَ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ إِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ قَالَ اللہُ لِمَلَائِكَتِہِ قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِي فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيَقُولُ قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِہِ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيَقُولُ مَاذَا قَالَ عَبْدِي فَيَقُولُونَ حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ فَيَقُولُ اللہُ ابْنُوا لِعَبْدِي بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَسَمُّوہُ بَيْتَ الْحَمْدِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
ابوسنان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے بیٹے سنا ن کو دفن کیااور ابوطلحہ خولانی قبر کی منڈیرپر بیٹھے تھے،جب میں نے (قبرسے) نکلنے کاارادہ کیا تووہ میرا ہاتھ پکڑکرکہا: ابوسنان! کیا میں تمہیں بشارت نہ دوں؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں ضروردیجئے،تو انہوں نے کہا: مجھ سے ضحاک بن عبدالرحمٰن بن عرزب نے بیان کیاکہ ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بندے کا بچہ ۱؎ فوت ہوجاتاہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے پوچھتاہے: تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کر لی؟تووہ کہتے ہیں: ہاں،پھر فرماتاہے: تم نے اس کے دل کاپھل لے لیا؟ وہ کہتے ہیں: ہاں۔تواللہ تعالیٰ پوچھتاہے: میرے بندے نے کیاکہا؟ وہ کہتے ہیں:اس نے تیری حمد بیان کی اورإنا للہ وإنا إلیہ راجعون پڑھاتو اللہ تعالیٰ فرماتاہے: میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنادو اور اس کانام بیت الحمد رکھّو۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔