Jamia al-Tirmidhi Hadith 1027 (سنن الترمذي)
[1027]صحیح
صحیح بخاری
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِيمَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ صَلَّی عَلَی جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَقُلْتُ لَہُ فَقَالَ إِنَّہُ مِنْ السُّنَّةِ أَوْ مِنْ تَمَامِ السُّنَّةِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ يَخْتَارُونَ أَنْ يُقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ بَعْدَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَی وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ و قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ لَا يُقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ عَلَی الْجَنَازَةِ إِنَّمَا ہُوَ ثَنَاءٌ عَلَی اللہِ وَالصَّلَاةُ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ وَالدُّعَاءُ لِلْمَيِّتِ وَہُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَغَيْرِہِ مِنْ أَہْلِ الْكُوفَةِ وَطَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَوْفٍ ہُوَ ابْنُ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَوَی عَنْہُ الزُّہْرِيُّ
طلحہ بن عوف کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک صلاۃِ جنازہ پڑھایاتوانہوں نے سورۂ فاتحہ پڑھی۔میں نے ان سے(اس کے بارے میں) پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ سنت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲-طلحہ بن عبداللہ بن عوف،عبدالرحمٰن بن عوف کے بھتیجے ہیں۔ان سے زہری نے روایت کی ہے،۳-صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پرعمل ہے یہ لوگ تکبیر اولیٰ کے بعد سورۂ فاتحہ پڑھنے کوپسندکرتے ہیں یہی شافعی،احمد اور اسحاق بن راہویہ کابھی قول ہے،۴-اوربعض اہل علم کہتے ہیں کہ صلاۃ جنازہ میں سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی ۱؎ اس میں تو صرف اللہ کی ثنا،نبی اکرمﷺ پر صلاۃ (درود) اور میت کے لیے دعاہوتی ہے۔اہل کوفہ میں سے ثوری وغیرہ کا یہی قول ہے۔