Jamia al-Tirmidhi Hadith 1034 (سنن الترمذي)
[1034]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (1679)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُنِيرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ ہَمَّامٍ عَنْ أَبِي غَالِبٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَلَی جَنَازَةِ رَجُلٍ فَقَامَ حِيَالَ رَأْسِہِ ثُمَّ جَاءُوا بِجَنَازَةِ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالُوا يَا أَبَا حَمْزَةَ صَلِّ عَلَيْہَا فَقَامَ حِيَالَ وَسَطِ السَّرِيرِ فَقَالَ لَہُ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ ہَكَذَا رَأَيْتَ النَّبِيَّ ﷺ قَامَ عَلَی الْجَنَازَةِ مُقَامَكَ مِنْہَا وَمِنْ الرَّجُلِ مُقَامَكَ مِنْہُ قَالَ نَعَمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ احْفَظُوا وَفِي الْبَاب عَنْ سَمُرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَنَسٍ ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَی غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ہَمَّامٍ مِثْلَ ہَذَا وَرَوَی وَكِيعٌ ہَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ہَمَّامٍ فَوَہِمَ فِيہِ فَقَالَ عَنْ غَالِبٍ عَنْ أَنَسٍ وَالصَّحِيحُ عَنْ أَبِي غَالِبٍ وَقَدْ رَوَی ہَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ أَبِي غَالِبٍ مِثْلَ رِوَايَةِ ہَمَّامٍ وَاخْتَلَفُوا فِي اسْمِ أَبِي غَالِبٍ ہَذَا فَقَالَ بَعْضُہُمْ يُقَالُ اسْمُہُ نَافِعٌ وَيُقَالُ رَافِعٌ وَقَدْ ذَہَبَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ إِلَی ہَذَا وَہُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ
ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کے ساتھ ایک آدمی کی صلاۃِ جنازہ پڑھی تو وہ اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے۔پھرلوگ قریش کی ایک عورت کاجنازہ لے کرآئے اورکہا: ابوحمزہ! اس کی بھی صلاۃِجنازہ پڑھادیجئے،تو وہ چارپائی کے بیچ میں یعنی عورت کی کمرکے سامنے کھڑے ہوئے،تو ان سے علاء بن زیاد نے پوچھا: آپ نے نبی اکرمﷺ کوعورت اورمرد کے جنازے میں اسی طرح کھڑے ہوتے دیکھاہے۔جیسے آپ کھڑے ہوئے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ۱؎۔اورجب جنازہ سے فارغ ہوئے توکہا: اس طریقہ کو یادکرلو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-انس کی یہ حدیث حسن ہے،۲-اورکئی لوگوں نے بھی ہمام سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔وکیع نے بھی یہ حدیث ہمام سے روایت کی ہے،لیکن انہیں وہم ہوا ہے۔انہوں نے عن غالب عن أنس کہاہے اورصحیح عن ابی غالب ہے،عبدالوارث بن سعید اوردیگرکئی لوگوں نے ابوغالب سے روایت کی ہے جیسے ہمام کی روایت ہے،۳-اس باب میں سمرہ سے بھی روایت ہے،۴-بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔اوریہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کابھی قول ہے۔