Jamia al-Tirmidhi Hadith 1155 (سنن الترمذي)

[1155] إسنادہ ضعیف

سنن أبي داود (2235) ابن ماجہ (2074)

انوار الصحیفہ ص 220

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا فَخَيَّرَہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ہَكَذَا رَوَی ہِشَامٌ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا وَرَوَی عِكْرِمَةُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ زَوْجَ بَرِيرَةَ وَكَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَہُ مُغِيثٌ وَہَكَذَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَہْلِ الْعِلْمِ وَقَالُوا إِذَا كَانَتْ الْأَمَةُ تَحْتَ الْحُرِّ فَأُعْتِقَتْ فَلَا خِيَارَ لَہَا وَإِنَّمَا يَكُونُ لَہَا الْخِيَارُ إِذَا أُعْتِقَتْ وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ وَرَوَی الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاہِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا فَخَيَّرَہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ وَرَوَی أَبُو عَوَانَةَ ہَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ فِي قِصَّةِ بَرِيرَةَ قَالَ الْأَسْوَدُ وَكَانَ زَوْجُہَا حُرًّا وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ التَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَہُمْ وَہُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَہْلِ الْكُوفَةِ

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ کے شوہرآزاد تھے،پھربھی رسول اللہ ﷺنے انہیں اختیاردیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اسی طرح ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے عائشہ سے روایت کی ہے،وہ کہتی ہیں کہ بریرہ کا شوہرغلام تھا،۳-عکرمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس کہتے ہیں: میں نے بریرہ کے شوہر کودیکھا ہے،وہ غلام تھے اور انہیں مغیث کہاجاتاتھا،۴-اسی طرح کی ابن عمر سے روایت کی گئی ہے،۵-بعض اہل علم کااسی پر عمل ہے،وہ کہتے ہیں کہ جب لونڈی آزادمردکے نکا ح میں ہو اور وہ آزاد کردی جائے تو اسے اختیارنہیں ہوگا۔اسے اختیار صرف اس صورت میں ہوگا،جب وہ آزاد کی جائے اور وہ کسی غلام کی زوجیت میں ہو۔یہی شافعی،احمد اوراسحاق بن راہویہ کا قول ہے،۶-لیکن اعمش نے بطریق: إبراہیم،عن الأسود،عن عائشۃ روایت کی ہےکہ بریرہ کے شوہر آزاد تھے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اختیار دیا۔ اورابوعوانہ نے بھی اس حدیث کوبطریق: الأعمش،عن إبراہیم،عن الأسود،عن عائشۃ بریرہ کے قصہ کے سلسلہ میں روایت کیا ہے،اسود کہتے ہیں: بریرہ کے شوہر آزاد تھے،۷-تابعین اوران کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم کا اسی پرعمل ہے۔اوریہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کابھی قول ہے ۱ ؎۔