Jamia al-Tirmidhi Hadith 1213 (سنن الترمذي)
[1213]إسنادہ صحیح
مشکوۃ المصابیح (4361)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمَرُو بْنُ عَلِيٍّ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ ثَوْبَانِ قِطْرِيَّانِ غَلِيظَانِ فَكَانَ إِذَا قَعَدَ فَعَرِقَ ثَقُلَا عَلَيْہِ فَقَدِمَ بَزٌّ مِنْ الشَّامِ لِفُلَانٍ الْيَہُودِيِّ فَقُلْتُ لَوْ بَعَثْتَ إِلَيْہِ فَاشْتَرَيْتَ مِنْہُ ثَوْبَيْنِ إِلَی الْمَيْسَرَةِ فَأَرْسَلَ إِلَيْہِ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتُ مَا يُرِيدُ إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَذْہَبَ بِمَالِي أَوْ بِدَرَاہِمِي فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ كَذَبَ قَدْ عَلِمَ أَنِّي مِنْ أَتْقَاہُمْ لِلَّہِ وَآدَاہُمْ لِلْأَمَانَةِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَنَسٍ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاہُ شُعْبَةُ أَيْضًا عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ قَالَ و سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ فِرَاسٍ الْبَصْرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ يَقُولُ سُئِلَ شُعْبَةُ يَوْمًا عَنْ ہَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ لَسْتُ أُحَدِّثُكُمْ حَتَّی تَقُومُوا إِلَی حَرَمِيِّ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ فَتُقَبِّلُوا رَأَسَہُ قَالَ وَحَرَمِيٌّ فِي الْقَوْمِ قَالَ أَبُو عِيسَی أَيْ إِعْجَابًا بِہَذَا الْحَدِيثِ
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کے جسم مبارک پر دو موٹے قطری کپڑے تھے،جب آپ بیٹھتے اور پسینہ آتا تو وہ آپ پر بوجھل ہوجاتے،شام سے فلاں یہودی کے کپڑے آئے۔تومیں نے عرض کیا:کاش! آپ اس کے پاس کسی کوبھیجتے اور اس سے دوکپڑے اس وعدے پر خریدلیتے کہ جب گنجائش ہوگی توقیمت دے دیں گے،آپ نے اس کے پاس ایک آدمی بھیجا،تواس نے کہا: جووہ چاہتے ہیں مجھے معلوم ہے،ان کا ارادہ ہے کہ میرا مال یا میرے دراھم ہڑپ کرلیں،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:وہ جھوٹاہے،اسے خوب معلوم ہے کہ میں لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا اورامانت کو سب سے زیادہ اداکرنے والاہوں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث حسن غریب صحیح ہے،۲-اسے شعبہ نے بھی عمار ہ بن ابی حفصہ سے روایت کیا ہے،۳-ابوداود طیالسی کہتے ہیں: ایک دن شعبہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھاگیا تو انہوں نے کہا: میں تم سے اس وقت اسے نہیں بیان کرسکتاجب تک کہ تم کھڑے ہوکرحرمی بن عمارہ بن ابی حفصہ (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) کا سرنہیں چومتے اورحرمی (وہاں)لوگوں میں موجود تھے،انہوں نے اس حدیث سے حد درجہ خوش ہوتے ہوئے یہ بات کہی،۴-اس باب مین ابن عباس،ا نس اور اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔