Jamia al-Tirmidhi Hadith 1237 (سنن الترمذي)

[1237]صحیح

مشکوۃ المصابیح (2822)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَہَی عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَجَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَسَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ سَمُرَةَ صَحِيحٌ ہَكَذَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُہُ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ فِي بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً وَہُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَہْلِ الْكُوفَةِ وَبِہِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ فِي بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَإِسْحَقَ

سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺنے جانور کو جانورسے ادھار بیچنے سے منع فرمایاہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-حسن کا سماع سمرہ سے صحیح ہے۔علی بن مدینی وغیرہ نے ایساہی کہاہے،۳-اس باب میں ابن عباس،جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۴-صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا جانور کو جانورسے ادھار بیچنے کے مسئلہ میں اسی حدیث پر عمل ہے۔سفیان ثوری اورا ہل کوفہ کا یہی قول ہے۔احمد بھی اسی کے قائل ہیں،۵-صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے جانور کے جانورسے ادھار بیچنے کی اجازت دی ہے۔اوریہی شافعی،اوراسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔