Jamia al-Tirmidhi Hadith 1274 (سنن الترمذي)

[1274]صحیح

مشکوۃ المصابیح (2866)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ عَنْ إِبْرَاہِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيِّ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِلَابٍ سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ فَنَہَاہُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّا نُطْرِقُ الْفَحْلَ فَنُكْرَمُ فَرَخَّصَ لَہُ فِي الْكَرَامَةِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُہُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاہِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قبیلہ ٔ کلاب کے ایک آدمی نے نبی اکرمﷺسے نرکومادہ پرچھوڑنے کی اجرت لینے کے بارے میں پوچھاتوآپ نے اسے منع کردیا،پھر اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم مادہ پرنر چھوڑتے ہیں توہمیں بخشش دی جاتی ہے (تواس کا حکم کیا ہے؟۔)آپ نے اسے بخشش لینے کی اجازت دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ہم اسے صرف ابراہیم بن حمیدہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے ہشام بن عروہ سے روایت کی ہے۔