Jamia al-Tirmidhi Hadith 1296 (سنن الترمذي)

[1296] إسنادہ ضعیف

سنن أبي داود (2619)

انوار الصحیفہ ص 222

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ إِذَا أَتَی أَحَدُكُمْ عَلَی مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيہَا صَاحِبُہَا فَلْيَسْتَأْذِنْہُ فَإِنْ أَذِنَ لَہُ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيہَا أَحَدٌ فَلْيُصَوِّتْ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَہُ أَحَدٌ فَلْيَسْتَأْذِنْہُ فَإِنْ لَمْ يُجِبْہُ أَحَدٌ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلْ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَہْلِ الْعِلْمِ وَبِہِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ سَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ سَمُرَةَ صَحِيحٌ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَہْلِ الْحَدِيثِ فِي رِوَايَةِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ وَقَالُوا إِنَّمَا يُحَدِّثُ عَنْ صَحِيفَةِ سَمُرَةَ

سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی ریوڑ کے پاس (دودھ پینے) آئے تواگران میں ان کا مالک موجود ہوتو اس سے اجازت لے،اگروہ اجازت دے دے تو دودھ پی لے۔اگران میں کوئی نہ ہوتو تین بار آواز لگائے،اگر کوئی جواب دے تو اس سے اجازت لے لے،اور اگر کوئی جواب نہ دے تو دودھ پی لے لیکن ساتھ نہ لے جائے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-سمرہ کی حدیث حسن غریب ہے،۲-اس باب میں عمراور ابوسعیدخدری سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-اہل علم کا اسی پرعمل ہے،احمد اوراسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں،۴-علی بن مدینی کہتے ہیں کہ سمرہ سے حسن کا سماع ثابت ہے،۵-بعض محدّثین نے حسن کی روایت میں جسے انہوں نے سمرہ سے روایت کی ہے کلام کیا ہے،وہ لوگ کہتے ہیں کہ حسن سمرہ کے صحیفہ سے حدیث روایت کرتے تھے ۲؎۔