Jamia al-Tirmidhi Hadith 1345 (سنن الترمذي)

[1345]صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيہِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَضَی بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاہِدِ الْوَاحِدِ قَالَ وَقَضَی بِہَا عَلِيٌّ فِيكُمْ قَالَ أَبُو عِيسَی وَہَذَا أَصَحُّ وَہَكَذَا رَوَی سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ مُرْسَلًا وَرَوَی عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ وَيَحْيَی بْنُ سُلَيْمٍ ہَذَا الْحَدِيثَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ رَأَوْا أَنَّ الْيَمِينَ مَعَ الشَّاہِدِ الْوَاحِدِ جَائِزٌ فِي الْحُقُوقِ وَالْأَمْوَالِ وَہُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ وَقَالُوا لَا يُقْضَی بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاہِدِ الْوَاحِدِ إِلَّا فِي الْحُقُوقِ وَالْأَمْوَالِ وَلَمْ يَرَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَہْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِہِمْ أَنْ يُقْضَی بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاہِدِ الْوَاحِدِ

ابوجعفر صادق سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ کیا،راوی کہتے ہیں:اور علی نے بھی اسی سے تمہارے درمیان فیصلہ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث زیادہ صحیح ہے،۲-اسی طرح سفیان ثوری نے بھی بطریق: جعفر بن محمد،عن أبیہ،عن النبی ﷺ مرسلاً روایت کی ہے۔اورعبدالعزیز بن ابوسلمہ اور یحییٰ بن سلیم نے اس حدیث کو بطریق: جعفر بن محمد،عن أبیہ،عن علی،عن النبی ﷺ (مرفوعاً) روایت کیا ہے،۳-صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پرعمل ہے،ان لوگوں کی رائے ہے کہ حقوق اور اموال کے سلسلے میں ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم کھلاناجائز ہے۔مالک بن انس،شافعی،احمد اوراسحاق بن راہویہ کابھی یہی قول ہے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے صرف حقوق اور اموال کے سلسلے ہی میں فیصلہ کیاجائے گا۔۴-اوراہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے فیصلہ کرنے کو جائز نہیں سمجھتے ۱؎۔