Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 308 (سنن الترمذي)

[308]صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُمِّہِ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ وَہُوَ عَاصِبٌ رَأْسَہُ فِي مَرَضِہِ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ بِالْمُرْسَلَاتِ قَالَتْ فَمَا صَلَّاہَا بَعْدُ حَتَّی لَقِيَ اللہَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي أَيُّوبَ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أُمِّ الْفَضْلِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہُ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِالْأَعْرَافِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَيْہِمَا وَرُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہُ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ أَنَّہُ كَتَبَ إِلَی أَبِي مُوسَی أَنْ اقْرَأْ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّہُ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ قَالَ وَعَلَی ہَذَا الْعَمَلُ عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ وَبِہِ يَقُولُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ و قَالَ الشَّافِعِيُّ وَذَكَرَ عَنْ مَالِكٍ أَنَّہُ كَرِہَ أَنْ يُقْرَأَ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِالسُّوَرِ الطِّوَالِ نَحْوَ الطُّورِ وَالْمُرْسَلَاتِ قَالَ الشَّافِعِيُّ لَا أَكْرَہُ ذَلِكَ بَلْ أَسْتَحِبُّ أَنْ يُقْرَأَ بِہَذِہِ السُّوَرِ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ان کی ماں ام الفضل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ ہماری طرف اس حال میں نکلے کہ آپ بیماری میں اپنے سرپر پٹی باندھے ہوئے تھے،مغرب پڑھائی توسورۂ مرسلات پڑھی،پھر اس کے بعد آپ نے یہ سورت نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ اللہ سے جاملے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-ام الفضل کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں جبیر بن مطعم،ابن عمر،ابوایوب اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-اور نبی اکرمﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے مغرب میں دونوں رکعتوں میں سورۂ اعراف پڑھی،اورآپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آ پ نے مغرب میں سورۂ طورپڑھی،۵-عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کولکھا کہ تم مغرب میں قصار مفصل پڑھاکرو،۶-اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ مغرب میں قصار مفصل پڑھتے تھے،۷-اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ابن مبارک،احمد اوراسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں،۸-امام شافعی کہتے ہیں کہ امام مالک کے سلسلہ میں ذکرکیاگیا ہے کہ انہوں نے مغرب میں طور اورمرسلات جیسی لمبی سورتیں پڑھنے کو مکروہ جاناہے۔شافعی کہتے ہیں: لیکن میں مکروہ نہیں سمجھتا،بلکہ مغرب میں ان سورتوں کے پڑھے جانے کو مستحب سمجھتاہوں۔