Jamia al-Tirmidhi Hadith 358 (سنن الترمذي)
[358] ضعیف
محمد بن القاسم: کذبوہ (تقریب: 6229)
وشیخہ الفضل بن دلھم لین ورمي بالإعتزال (تق: 5402) ضعفہ الجمہور۔۔۔واختلف قول أحمد وابن معین فیہ و ضعفہ راجح
وللحدیث شواہد ضعیفۃ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَی الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ دَلْہَمٍ عَنْ الْحَسَنِ قَال سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ لَعَنَ رَسُولُ اللہِ ﷺ ثَلَاثَةً رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَہُمْ لَہُ كَارِہُونَ وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُہَا عَلَيْہَا سَاخِطٌ وَرَجُلٌ سَمِعَ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ ثُمَّ لَمْ يُجِبْ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَطَلْحَةَ وَعَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَنَسٍ لَا يَصِحُّ لِأَنَّہُ قَدْ رُوِيَ ہَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ مُرْسَلٌ قَالَ أَبُو عِيسَی وَمُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ تَكَلَّمَ فِيہِ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَضَعَّفَہُ وَلَيْسَ بِالْحَافِظِ وَقَدْ كَرِہَ قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنْ يَؤُمَّ الرَّجُلُ قَوْمًا وَہُمْ لَہُ كَارِہُونَ فَإِذَا كَانَ الْإِمَامُ غَيْرَ ظَالِمٍ فَإِنَّمَا الْإِثْمُ عَلَی مَنْ كَرِہَہُ و قَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ فِي ہَذَا إِذَا كَرِہَ وَاحِدٌ أَوْ اثْنَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ فَلَا بَأْسَ أَنْ يُصَلِّيَ بِہِمْ حَتَّی يَكْرَہَہُ أَكْثَرُ الْقَوْمِ
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے تین لوگوں پرلعنت فرمائی ہے: ایک وہ شخص جولوگوں کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں۔دوسری وہ عورت جو رات گزارے اور اس کا شوہر اس سے ناراض ہو،تیسرا وہ جو حی علی الفلاح سُنے اوراس کا جواب نہ دے(یعنی جماعت میں حاضرنہ ہو)۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث صحیح نہیں ہے کیوں کہ حقیقت میں یہ حدیث حسن (بصری)سے بغیر کسی واسطے کے نبی اکرمﷺ سے مرسلاًمروی ہے،۲-محمد بن قاسم کے سلسلہ میں احمد بن حنبل نے کلام کیا ہے،انہوں نے انہیں ضعیف قراردیا ہے۔اور یہ کہ وہ حافظ نہیں ہیں ۱؎،۳-اس باب میں ابن عباس،طلحہ،عبداللہ بن عمرو اور ابوامامہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۴-بعض اہل علم کے یہاں یہ مکروہ ہے کہ آدمی لوگوں کی امامت کرے اوروہ اسے ناپسند کرتے ہوں او ر جب امام ظالم (قصوروار) نہ ہو تو گناہ اسی پر ہوگا جو ناپسند کرے۔احمد اور اسحاق بن راہویہ کااس سلسلہ میں یہ کہنا ہے کہ جب ایک یا دو یاتین لوگ ناپسند کریں تو اس کے انہیں صلاۃ پڑھانے میں کوئی حرج نہیں،الا یہ کہ لوگوں کی اکثریت اُسے ناپسند کرتی ہو۔