Jamia al-Tirmidhi Hadith 381 (سنن الترمذي)
[381]حسن
قال الامام الترمذی: ’’إسنادہ لیس بذاک و میمون أبو حمزۃ قد ضعفہ بعض أھل العلم‘‘، قلت: میمون الأعور توبع وأبو صالح مولٰی طلحۃ: حسن الحدیث، صحح لہ الحاکم (1/ 271) والذہبی مشکوۃ المصابیح (1002)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ،حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ،أَخْبَرَنَا مَيْمُونٌ أَبُو حَمْزَةَ،عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَی طَلْحَةَ،عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: رَأَی النَّبِيُّ ﷺ غُلاَمًا لَنَا يُقَالُ لَہُ: أَفْلَحُ إِذَا سَجَدَ نَفَخَ فَقَالَ: يَا أَفْلَحُ! تَرِّبْ وَجْہَكَ. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ: وَكَرِہَ عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ النَّفْخَ فِي الصَّلاَةِ. وَقَالَ: إِنْ نَفَخَ لَمْ يَقْطَعْ صَلاَتَہُ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ: وَبِہِ نَأْخُذُ. قَالَ أَبُو عِيسَی: وَرَوَی بَعْضُہُمْ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ہَذَا الْحَدِيثَ،وَقَالَ: مَوْلًی لَنَا يُقَالُ لَہُ رَبَاحٌ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے ہمارے (گھرکے) ایک لڑکے کودیکھا جسے افلح کہاجاتاتھا کہ جب وہ سجدہ کرتاتو پھونک مارتاہے،توآپ نے فرمایا:افلح! اپنے چہرے کو گرد آلود ہ کر ۱؎۔ احمد بن منیع کہتے ہیں کہ عباد بن العوام نے صلاۃ میں پھونک مارنے کو مکروہ قراردیاہے اورکہا ہے کہ اگر کسی نے پھونک مارہی دی تواس کی صلاۃ باطل نہ ہوگی۔احمد بن منیع کہتے ہیں کہ اسی کو ہم بھی اختیارکرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کو بعض دیگر لوگوں نے ابوحمزہ کے واسطہ سے روایت کی ہے۔اور غُلاَمًا لَنَا یُقَالُ لَہُ أَفْلَحُ کے بجائے مَوْلًی لَنَا یُقَالُ لَہُ رَبَاحٌ (ہمارے مولیٰ کو جسے رباح کہاجاتاتھا)کہا ہے۔