Jamia al-Tirmidhi Hadith 422 (سنن الترمذي)
[422]صحیح
قیس بن عمرو ھو قیس بن قھد، والسند مرسل ولہ شواھد عند ابن خزیمۃ (1116) وابن حبان (624) وغیرہما وھو حدیث حسن، انظر ’’اعلام أھل العصر بأحکام رکعتي الفجر‘‘ مشکوۃ المصابیح (1044)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ الْبَلْخِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِيمَ عَنْ جَدِّہِ قَيْسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّيْتُ مَعَہُ الصُّبْحَ ثُمَّ انْصَرَفَ النَّبِيُّ ﷺ فَوَجَدَنِي أُصَلِّي فَقَالَ مَہْلًا يَا قَيْسُ أَصَلَاتَانِ مَعًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنِّي لَمْ أَكُنْ رَكَعْتُ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ قَالَ فَلَا إِذَنْ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِيمَ لَا نَعْرِفُہُ مِثْلَ ہَذَا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ و قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ سَمِعَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ مِنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ہَذَا الْحَدِيثَ وَإِنَّمَا يُرْوَی ہَذَا الْحَدِيثُ مُرْسَلًا وَقَدْ قَالَ قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ مَكَّةَ بِہَذَا الْحَدِيثِ لَمْ يَرَوْا بَأْسًا أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَسَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ہُوَ أَخُو يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ وَقَيْسٌ ہُوَ جَدُّ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَيُقَالُ ہُوَ قَيْسُ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ ہُوَ قَيْسُ بْنُ قَہْدٍ وَإِسْنَادُ ہَذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ التَّيْمِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ قَيْسٍ وَرَوَی بَعْضُہُمْ ہَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِيمَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ خَرَجَ فَرَأَی قَيْسًا وَہَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ
قیس (بن عمروبن سہل) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نکلے اورجماعت کے لیے اقامت کہہ دی گئی،تومیں نے آپ کے ساتھ فجر پڑھی،پھر نبی اکرمﷺ پلٹے تو مجھے دیکھا کہ میں صلاۃپڑھنے جارہاہوں،توآپ نے فرمایا: قیس ذرا ٹھہرو،کیا دوصلاتیں ایک ساتھ ۱؎ (پڑھنے جارہے ہو؟) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے فجر کی دونوں سنتیں نہیں پڑھی تھیں۔آپ نے فرمایا: تب کوئی حرج نہیں ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-ہم محمد بن ابراہیم کی حدیث کواس کے مثل صرف سعدبن سعید ہی کے طریق سے جانتے ہیں،۲-سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ عطاء بن ابی رباح نے بھی یہ حدیث سعد بن سعید سے سنی ہے،۳-یہ حدیث مرسلاً بھی روایت کی جاتی ہے،۴-اہل مکہ میں سے کچھ لوگوں نے اسی حدیث کے مطابق کہاہے کہ آدمی کے فجرکی فرض صلاۃپڑھنے کے بعد سورج نکلنے سے پہلے دونوں سنتیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں،۵-سعد بن سعید یحییٰ بن سعید انصاری کے بھائی ہیں،اور قیس یحیی بن سعید انصاری کے دادا ہیں۔انہیں قیس بن عمرو بھی کہاجاتاہے اور قیس بن قہد بھی،۶-اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے۔محمد بن ابراہیم تیمی نے قیس سے نہیں سناہے،بعض لوگوں نے یہ حدیث سعد بن سعید سے اورسعد نے محمد بن ابراہیم سے روایت کی ہے کہ نبی اکرمﷺ نکلے تو قیس کودیکھا،اوریہ عبدالعزیزکی حدیث سے جسے انہوں نے سعد بن سعیدسے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔