Jamia al-Tirmidhi Hadith 424 (سنن الترمذي)
[424]حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّہْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَہَا رَكْعَتَيْنِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللہِ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ كُنَّا نَعْرِفُ فَضْلَ حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَلَی حَدِيثِ الْحَارِثِ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَمَنْ بَعْدَہُمْ يَخْتَارُونَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ قَبْلَ الظُّہْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَہُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَإِسْحَقَ وَأَہْلِ الْكُوفَةِ و قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّہَارِ مَثْنَی مَثْنَی يَرَوْنَ الْفَصْلَ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَبِہِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد دورکعتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-علی رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن ہے،۲-اس باب میں عائشہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-ہم سے ابوبکر عطار نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ نے یحییٰ بن سعید سے اوریحییٰ نے سفیان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ہم جانتے تھے کہ عاصم بن ضمرہ کی حدیث حارث (اعور) کی حدیث سے افضل ہے،۴-صحابہ کرام اور بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل کاعمل اسی پر ہے۔وہ پسندکرتے ہیں کہ آدمی ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے۔اوریہی سفیان ثوری،ابن مبارک،اسحاق بن راہویہ اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔اوربعض اہل علم کہتے ہیں کہ دن اور رات (دونوں)کی صلاتیں دو دو رکعتیں ہیں،وہ ہردورکعت کے بعد فصل کرنے کے قائل ہیں شافعی اور احمدبھی یہی کہتے ہیں ۱؎۔