Jamia al-Tirmidhi Hadith 429 (سنن الترمذي)
[429]حسن
مشکوۃ المصابیح (1171)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ہُوَ الْعَقَدِيُّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَفْصِلُ بَيْنَہُنَّ بِالتَّسْلِيمِ عَلَی الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَمَنْ تَبِعَہُمْ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُؤْمِنِينَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَاخْتَارَ إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ أَنْ لَا يُفْصَلَ فِي الْأَرْبَعِ قَبْلَ الْعَصْرِ وَاحْتَجَّ بِہَذَا الْحَدِيثِ و قَالَ إِسْحَقُ وَمَعْنَی قَوْلِہِ أَنَّہُ يَفْصِلُ بَيْنَہُنَّ بِالتَّسْلِيمِ يَعْنِي التَّشَہُّدَ وَرَأَی الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ صَلَاةَ اللَّيْلِ وَالنَّہَارِ مَثْنَی مَثْنَی يَخْتَارَانِ الْفَصْلَ فِي الْأَرْبَعِ قَبْلَ الْعَصْرِ
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺعصر سے پہلے چارکعتیں پڑھتے تھے،اور ان کے درمیان: مقرب فرشتوں اور ان مسلمانوں اور مو منوں پرکہ جنہوں نے ان کی تابعداری کی ان پر سلام کے ذریعہ فصل کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-علی رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن ہے۔۲-اس باب میں ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔اسحاق بن ابراہیم (ابن راہویہ) نے عصر سے پہلے کی چار رکعتوں میں فصل نہ کرنے کو ترجیح دی ہے،اورانہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔اسحاق کہتے ہیں: ان کے (علی کے) قول سلام کے ذریعے ان کے درمیان فصل کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آپ دورکعت کے بعد تشہد پڑھتے تھے،اور شافعی اور احمدکی رائے ہے کہ رات اور دن کی صلاۃ دو دورکعت ہے اور وہ دونوں عصر سے پہلے کی چار رکعتوں میں سلام کے ذریعہ فصل کرنے کو پسندکرتے ہیں۔