Jamia al-Tirmidhi Hadith 637 (سنن الترمذي)

[637]حسن

ولہ طریق آخر عند أبي داود (1563) وسندہ حسن مشکوۃ المصابیح (1809)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِيعَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ أَتَتَا رَسُولَ اللہِ ﷺ وَفِي أَيْدِيہِمَا سُوَارَانِ مِنْ ذَہَبٍ فَقَالَ لَہُمَا أَتُؤَدِّيَانِ زَكَاتَہُ قَالَتَا لَا قَالَ فَقَالَ لَہُمَا رَسُولُ اللہِ ﷺ أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللہُ بِسُوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ قَالَتَا لَا قَالَ فَأَدِّيَا زَكَاتَہُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَہَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاہُ الْمُثَنَّی بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ نَحْوَ ہَذَا وَالْمُثَنَّی بْنُ الصَّبَّاحِ وَابْنُ لَہِيعَةَ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ وَلَا يَصِحُّ فِي ہَذَا الْبَابِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ شَيْءٌ

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ دوعورتیں رسو ل اللہ ﷺ کے پاس آئیں ان کے ہاتھوں میں سونے کے دوکنگن تھے،توآپ نے ان سے فرمایا: کیا تم دونوں اس کی زکاۃ اداکرتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں،تورسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تم پسند کروگی کہ اللہ تم دونوں کو آگ کے دوکنگن پہنائے؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں،آپ نے فرمایا: توتم دونوں ان کی زکاۃ اداکرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کو مثنیٰ بن صباح نے بھی عمرو بن شعیب سے اسی طرح روایت کیاہے اور مثنیٰ بن صباح اور ابن لہیعہ دونوں حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں،نبی اکرمﷺسے اس باب میں کوئی چیز صحیح نہیں ہے۔