Jamia al-Tirmidhi Hadith 651 (سنن الترمذي)
[651] إسنادہ ضعیف
ابو داود (1626) نسائي (2593) ابن ماجہ (1804)
حکیم بن جبیر ضعیف کما قال النسائي (الضعفاء: 129) وغیرہ،انظر تحفۃ الأقویاء (83) وقال العیني: ضعفہ الجمھور (عمدۃ القاري 95/11) وقال الھیثمي: ھو متروک،ضعفہ الجمھور (مجمع الزوائد 320/5،وفی المطبوع: حکیم بن عبید وھو خطأ والصواب: حکیم بن جبیر)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ،حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ،حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ بِہَذَا الْحَدِيثِ. فَقَالَ لَہُ عَبْدُاللہِ بْنُ عُثْمَانَ صَاحِبُ شُعْبَةَ: لَوْ غَيْرُ حَكِيمٍ حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِيثِ. فَقَالَ لَہُ سُفْيَانُ: وَمَا لِحَكِيمٍ لاَ يُحَدِّثُ عَنْہُ شُعْبَةُ؟ قَالَ: نَعَمْ،قَالَ سُفْيَانُ: سَمِعْتُ زُبَيْدًا يُحَدِّثُ بِہَذَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ. وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَصْحَابِنَا. وَبِہِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ وَعَبْدُاللہِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ. قَالُوا: إِذَا كَانَ عِنْدَ الرَّجُلِ خَمْسُونَ دِرْہَمًا،لَمْ تَحِلَّ لَہُ الصَّدَقَةُ. قَالَ: وَلَمْ يَذْہَبْ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ إِلَی حَدِيثِ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ. وَوَسَّعُوا فِي ہَذَا وَقَالُوا: إِذَا كَانَ عِنْدَہُ خَمْسُونَ دِرْہَمًا أَوْ أَكْثَرُ،وَہُوَ مُحْتَاجٌ،فَلَہُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ الزَّكَاةِ،وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَغَيْرِہِ مِنْ أَہْلِ الْفِقْہِ وَالْعِلْمِ.
سفیان نے بھی حکیم بن جبیرسے یہ حدیث اسی سند سے روایت کی ہے۔ جب سفیان نے یہ حدیث روایت کی تو ان سے شعبہ کے شاگرد عبداللہ بن عثمان نے کہا: کاش حکیم کے علاوہ کسی اورنے اس حدیث کوبیان کیا ہوتا،توسفیان نے ان سے پوچھاـ: کیا بات ہے کہ شعبہ حکیم سے حدیث روایت نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا: ہاں،وہ نہیں کرتے۔تو سفیان نے کہا: میں نے اسے زبید کومحمد بن عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کرتے سناہے،اوراسی پر ہمارے بعض اصحاب کاعمل ہے اوریہی سفیان ثوری،عبداللہ بن مبارک،احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں،ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب آدمی کے پاس پچاس درہم ہوں تو اس کے لئے زکاۃ جائز نہیں۔اوربعض اہل علم حکیم بن جبیر کی حدیث کی طرف نہیں گئے ہیں بلکہ انہوں نے اس میں مزید گنجائش رکھی ہے،وہ کہتے ہیں کہ جب کسی کے پاس پچاس درہم یا اس سے زیادہ ہوں اور وہ ضرورت مند ہو تو اس کو زکاۃ لینے کا حق ہے،اہل فقہ واہل حدیث میں سے شافعی وغیرہ کایہی قول ہے۔