Jamia al-Tirmidhi Hadith 652 (سنن الترمذي)
[652]حسن
مشکوۃ المصابیح (1830)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِيمَ عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ وَحُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَی شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِيمَ ہَذَا الْحَدِيثَ بِہَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَرْفَعْہُ وَقَدْ رُوِيَ فِي غَيْرِ ہَذَا الْحَدِيثِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ لَا تَحِلُّ الْمَسْأَلَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ قَوِيًّا مُحْتَاجًا وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَہُ شَيْءٌ فَتُصُدِّقَ عَلَيْہِ أَجْزَأَ عَنْ الْمُتَصَدِّقِ عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ وَوَجْہُ ہَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَہْلِ الْعِلْمِ عَلَی الْمَسْأَلَةِ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کسی مالدار کے لیے مانگناجائزنہیں اور نہ کسی طاقتوراور صحیح سالم شخص کے لیے مانگنا جائزہے ۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱-عبداللہ بن عمرو کی حدیث حسن ہے،۲-اور شعبہ نے بھی یہ حدیث اسی سند سے سعد بن ابراہیم سے روایت کی ہے،لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیاہے،۳-اس باب میں ابوہریرہ،حبشی بن جنادہ اور قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۴-اوراس حدیث کے علاوہ میں نبی اکرمﷺسے مروی ہے کہ کسی مالدار کے لئے مانگنا جائز نہیں اورنہ کسی ہٹے کٹے کے لیے مانگنا جائز ہے اور جب آدمی طاقتور وتوانا ہو لیکن محتاج ہواور اس کے پاس کچھ نہ ہو اور اسے صدقہ دیا جائے تو اہل علم کے نزدیک اس دینے والے کی زکاۃ اداہوجائے گی۔بعض اہل علم نے اس حدیث کی توجیہ یہ کی ہے کہ لا تحل لہ الصدقۃ کا مطلب ہے کہ اس کے لئے مانگنا درست نہیں ہے ۲؎۔