Jamia al-Tirmidhi Hadith 755 (سنن الترمذي)
[755] إسنادہ ضعیف
الحسن البصري مدلس وعنعن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِصَوْمِ عَاشُورَاءَ يَوْمُ الْعَاشِرِ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَاخْتَلَفَ أَہْلُ الْعِلْمِ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَ بَعْضُہُمْ يَوْمُ التَّاسِعِ و قَالَ بَعْضُہُمْ يَوْمُ الْعَاشِرِ وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ صُومُوا التَّاسِعَ وَالْعَاشِرَ وَخَالِفُوا الْيَہُودَ وَبِہَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ
عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے دسویں تاریخ کو عاشوراء کا صوم رکھنے کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اہل علم کا عاشورا ء کے دن کے سلسلے میں اختلاف ہے۔بعض کہتے ہیں:عاشوراء نواں دن ہے اوربعض کہتے ہیں: دسوان دن ۱؎ ابن عباس سے مروی ہے کہ نویں اور دسویں دن کا صوم رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو۔شافعی،احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول اسی حدیث کے مطابق ہے۔