Jamia al-Tirmidhi Hadith 813 (سنن الترمذي)

[813] ضعیف

ابن ماجہ (2896) والحدیث الآتی (2998)

إبراہیم بن یزید الخوزي: متروک الحدیث (تقریب: 272)

وللحدیث شواہد ضعیفۃ

انوار الصحیفہ ص 211

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ مَا يُوجِبُ الْحَجَّ قَالَ الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْہِ عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً وَجَبَ عَلَيْہِ الْحَجُّ وَإِبْرَاہِيمُ ہُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ الْمَكِّيُّ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيہِ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِہِ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرمﷺ کے پاس آکر پوچھا:اللہ کے رسول! کیا چیز حج واجب کرتی ہے؟ آپ نے فرمایا: سفرخرچ اور سواری ۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-یہ حدیث حسن ہے،۲-ابراہیم ہی ابن یزید خوزی مکی ہیں اور ان کے حافظہ کے تعلق سے بعض اہل علم نے ان پر کلام کیا ہے،۳-اہل علم کااسی پرعمل ہے کہ آدمی جب سفرخرچ اور سواری کا مالک ہوجائے تو اس پر حج واجب ہوجاتاہے۔