Jamia al-Tirmidhi Hadith 960 (سنن الترمذي)

[960]حسن

مشکوۃ المصابیح (2576)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ الطَّوَافُ حَوْلَ الْبَيْتِ مِثْلُ الصَّلَاةِ إِلَّا أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ فِيہِ فَمَنْ تَكَلَّمَ فِيہِ فَلَا يَتَكَلَّمَنَّ إِلَّا بِخَيْرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَقَدْ رُوِيَ ہَذَا الْحَدِيثُ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ وَغَيْرُہُ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا وَلَا نَعْرِفُہُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ لَا يَتَكَلَّمَ الرَّجُلُ فِي الطَّوَافِ إِلَّا لِحَاجَةٍ أَوْ يَذْكُرُ اللہَ تَعَالَی أَوْ مِنْ الْعِلْمِ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: بیت اللہ کے گرد طواف صلاۃ کے مثل ہے۔البتہ اس میں تم بول سکتے ہو(جب کہ صلاۃمیں تم بول نہیں سکتے) تو جواس میں بولے وہ زبان سے بھلی بات ہی نکالے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث ابن طاؤس وغیرہ نے ابن عباس سے موقوفاًروایت کی ہے۔ہم اسے صرف عطاء بن سائب کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں،۲-اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے،یہ لوگ اس بات کو مستحب قرار دیتے ہیں کہ آدمی طواف میں بلاضرورت نہ بولے (اوراگربولے)تواللہ کا ذکرکرے یا پھر علم کی کوئی بات کہے۔